عازمین کیلئے خوبصورت عمارت کی تعمیر پر اظہار خوشی۔ تکمیل میں مختلف پارٹیوں کی خدمات کاذکر
بنگلورو۔26؍اگست(ایس اونیوز) سابق ریاستی وزیر وحلقہ چامراج پیٹ کے رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے حج گھر کی تکمیل پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام کا برسوں پرانا خواب شرمندہ تعبیر ہواہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سدارامیا نے حج گھر کی تکمیل میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک عالیشان اور خوبصورت عمارت عازمین حج بیت اللہ کے لئے فراہم کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حج ہاؤز کے مکمل تعمیری کاموں کا خرچ خودریاستی حکومت نے ہی برداشت کیاہے۔ ان تعمیراتی کاموں میں نجی افرادنے کسی بھی حصہ کے تعمیری موں کو اپنے صرف خاص سے نہیں کرائی ہے۔ ریاستی حکومت نے خود اس میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکمل فنڈ جاری کیاتھا۔ ضمیر احمد خان نے کہا کہ ممبئی، نئی دہلی سمیت ملک کی جن ریاستوں میں حج گھر تعمیر کئے گئے ہیں انہیں حج ہاؤز کا نام دیاگیاہے لیکن یہاں حج ہاؤز کی بجائے حج بھون کا نام جو دیاہے اس سے انہیں کافی دکھ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سکیولرحکومت موجود رہنے کے باوجودحج گھرکو حج بھون کا نام دینامناسب نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی حج ہاؤز کو اولین مجاہد آزادی وسکیولر حکمران حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے نام سے منسوب کریں تاکہ سلطان شہیدؒ کو خراج عقیدت پیش کرسکیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جس وقت ایچ ڈی کمارسوامی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے اس وقت اس حج ہاؤز کی جگہ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھارتیہ جنتاپارٹی( بی جے پی) کے دور اقتدار میں اس وقت کے وزیراعلیٰ ڈی وی سدانندا گوڈا نے حج گھر کے تعمیری کاموں کے لئے سنگ بنیاد رکھاتھا۔ اب ریاست میں کانگریس حکومت برسراقتدار ہے تو اس حج گھر کا تعمیری کام مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس جس شخص سے جو جو کام لینا چاہتا ہے وہ لے لیتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں سکیولر حکومت برسراقتدار پر رہنے کے باوجود حج گھر کو حضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ کے نام سے منسوب کرنے کی بجائے حج بھون کا نام دے کر سلطانؒ کی خدمات کوفراموش کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت اس حج گھر کو سلطان شہیدؒ کے نام سے منسوب کرنے میں ناکام رہی تو 2018کے اسمبلی انتخابات کے دوران جب ان کی پارٹی اقتدار پر آئے تو وہ اس حج گھر کو سلطان شہیدؒ کے نام سے ضرور منسوب کریں گے۔ضمیر احمد نے بتایا کہ وہ خاموشی سے خدمت خلق کرتے آرہے ہیں۔ جسے وہ آخری سانس تک جاری رکھیں گے۔ انہوں نے سیاسی مفاد کے لئے کبھی بھی ملت اسلامیہ کا استعمال نہیں کیاہے اورنہ ہی کبھی حربہ استعمال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے غریب ومستحق افراد کے پیارومحبت وخلوص نے ان میں خدمات کو وسیع کرنے کا جذبہ پیدا کرایا ہے۔ ان غریب افراد کی فلاح وبہبود ضرورتمندوں کی بروقت ضرورتوں کو پورا کرنا ہی ان کا اولین فریضہ ہے۔ جس کو وہ ہمیشہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ غریب وکمزور طبقات نے ان پر جو اعتمادکیاہے اوراپنی محبت کے پھول نچھاورکررہے ہیں۔ اس کے لئے اگر وہ ان کے جسم میں بہنے والے خون کو سیاہی اورجسم کی جلد کوکاغذبناکر شکریہ کے الفاظ لکھیں تو بھی کم ہے۔ ضمیر احمد نے بتایا کہ 27؍اگست کوحج گھر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے خود وزیراعلیٰ سدارامیا نے انہیں دعوت دی ہے۔ لیکن انہوں نے وزیراعلیٰ سے صاف طورپر کہاہے کہ وہ خاموشی سے عازمین حج بیت اللہ کی خدمت انجام دیتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کی ہے۔ اس لئے کل ہونے والے افتتاحی تقریب میں بھی شرکت نہ کرنے کی بات بتاکر معزرت چاہ لی ہے۔ اس موقع پر جنتادل سیکولر(جے ڈی ایس) اقلیتی شعبہ کے ریاستی صدر شکیل نواز،کارپوریٹر سید مجاہد بھی موجودتھے۔